motapa kam karne ka ilaj - Online Hikmat | Shifa Herbal | Mardana Kamzori, Desi Totkay, حکیمی نسخے

Breaking

Thursday, 1 March 2018

motapa kam karne ka ilaj





Motapa ab aik waba ki tarha phailta ja raha hy .pakistan aur pakistan sy bahir app ko har 4th person fattish nazar aai ga is ki wajha bay tuuka khana aur fast food khana hy motapa kam karne ka ilaj .is k ilawa is ki aur b bohat see wajhoohat hain.



 جسطرح کینسر جدید دور کا ایک خطرناک اور مہلک مرض ہے۔ اسی طرح موٹاپا بھی اس دور کا ایک لا علاج اور اگر لاعلاج نہیں تو عسیر العلاج مرض ضروری ہے۔ اس ضمن میں یورپ کے سلمنگ سنٹر جو کہ اب پاکستان کے تمام شہروں میں رواج پا چکے ہیں یہ سنٹر ورزشوں کے ساتھ ساتھ کھانے کی ادویات بھی استعمال کراتے ہیں جس سے انسان موٹاپے میں کم لیکن امراض کا گڑھ بن جاتا ہے۔ لیکن جب تک یہ طریقہ استعمال کرتا ہے تندرست رہتا ہے اور جب یہ طریقہ چھوڑ دیتا ہے بیماری پھر غالب ہو جاتی ہے۔


مشاہداتی زندگی میں ایسے مریض کو ایک نہیں ہزاروں کی تعداد میں دیکھنے کا موقع ملا ہے جو بہت زیادہ فربہ اور موٹے تھے۔ علاج کے طور پر ورزش اور کچھ کھانے کی ادویات استعمال کیں اور اس بات سے وہ خود حیران ہوئے اور ان کو دیکھنے والے بھی کہ جب انہوں نے وہ دوا استعمال کی تو لاجواب فائدہ نمودار ہوا لیکن کچھ عرصے بعد واپس اسی کیفیت میں آگئے۔ ذیل میں ایک ایسا کم خرچ اور سہل الحصول اور بالا نشین نسخہ پیش ہے امید ہے کہ آپ اس کی قدر فرمائیں گے۔

نسخہ
لاکھ عمدہ 50 گرام
زیرہ سیاہ 50 گرام
کلونجی 50 گرام

تمام ادویات کو کوٹ پیس کر سفوف تیار کریں اور بڑے سائز کے کیپسول بھرلیں دو سے ایک کیپسول ایک وقت میں پانی کے ہمراہ کھانے سے قبل دن میں دوبار استعمال کریں۔ انشاءاللہ یقینی فوائد نمودار ہوں گے ایک بہت ہی زیادہ موٹی خاتون نے جو کہ اب چلنے پھرنے سے بھی عاجز آچکی تھی۔ جب یہی نسخہ استعمال کیا چونکہ ہر علاج سے تنگ تھی اور لئے یہ نسخہ مستقل استعمال کیا اور استعمال کرنے کے بعد جب اپنا وزن کیا تو سترہ پاؤنڈ وزن صرف ڈیڑھ ماہ کے عرصے کے دوران کم ہوا۔ ۔ ۔ ۔ اور ساتھ “تین چ“ استعمال نہ کی جائے۔ (کلونجی کے کرشمات)
یعنی چاول، چینی اور چکنائی یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کو فربہ اور غیر ضروری موٹاپا دیتی ہیں۔


Dawa Khana
Hakeem Abu Bakar,
Main Bazar
Bahawalpur : Contact : 03428822999






No comments:

Post a Comment